متھورا 2 ستمبر (ایس او نیوز) ڈاکٹر کفیل خان کو اُترپردیش کی متھورا جیل سے بالاخر رہائی نصیب ہوگئی ہے۔ آلہ آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر کفیل خان کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد منگل شب قریب بارہ بجے انہیں جیل سے رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو علی گڑھ یونیورسٹی میں 13 ڈسمبر 2019 کو سی اے اے، این آر سی اور این پی اے کی مخالفت میں کئے گئے احتجاج میں شرکت کرنے اور تقریر کرنے پر جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھڑکاو بھاشن کا الزام لگایا گیا تھا اور جب عدالت سے ان کی ضمانت منظور ہو گئی تو ان پر علی گڑھ کے ضلع مجسٹریٹ نے این ایس اے کے تحت کارروائی کر دی۔ اتنا ہی نہیں ان پر عائد این ایس اے کی مدت کو بھی انتظامیہ کی طرف سے دو مرتبہ بڑھایا بھی گیا۔
ڈاکٹر کفیل کی جانب سے دائر کی گئی عرضی میں این ایس اے کی مدت کو چیلنچ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اب اب آلہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں این ایس اے کے تحت ڈاکٹر کفیل کو حراست میں لینے کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم سنایا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈاکٹر کفیل کا بھاشن یکتا کی بات کرنے والا تھا، کہیں سے ایسا نہیں لگا کہ بھاشن بھڑکاو تھا، لہٰذا اُنہیں فوری رہا کیا جانا چاہئے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد 24 گھنٹے کے اندر ڈاکٹر کفیل کو رہا کر دیا گیا ہے۔
عدالت عالیہ کے اس فیصلے سے یوپی کی یوگی حکومت کو منہ کی کھانی پڑی ہے جس نے ڈاکٹر کفیل کو ایک تقریر کے جرم میں قریب آٹھ مہینوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا تھا۔